وہ جس نے ڈھال دیا برف کو شرارے میں

خورشید طلب

وہ جس نے ڈھال دیا برف کو شرارے میں

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    وہ جس نے ڈھال دیا برف کو شرارے میں

    میں کب سے سوچ رہا ہوں اسی کے بارے میں

    نہ جانے نیند سے کب گھر کے لوگ جاگیں گے

    کہ اب تو دھوپ چلی آئی ہے اوسارے میں

    میں جاگ جاگ کے شب بھر اسے تلاشتا ہوں

    لکھا ہوا ہے مرا نام اک ستارے میں

    کھلے گی دھوپ تو وادی کا رنگ نکھرے گا

    ابھی تو اوس کی اک دھند ہے نظارے میں

    کبھی دماغ کو خاطر میں ہم نے لایا نہیں

    ہم اہل دل تھے ہمیشہ رہے خسارے میں

    طلبؔ یہ سوچ کے لگ جائے نہ زبان میں زنگ

    کسی سے بات میں کرتا نہیں اشارے میں

    مآخذ
    • کتاب : Ghazal Ke Rang (Pg. 147)
    • Author : Akram Naqqash, Sohil Akhtar
    • مطبع : Aflaak Publications, Gulbarga (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY