وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہے
وہ جو بے نیاز جہاں کرے مجھے اس نظر کی تلاش ہے
جو تجھے بنا دے غم آشنا مجھے اس اثر کی تلاش ہے
نہ رہے جہاں پہ پہنچ کے پھر کسی در پہ جانے کی آرزو
جہاں عشق کی بھی ہے آبرو مجھے ایسے در کی تلاش ہے
جہاں بکھری پیار کی داستاں جہاں ذرہ ذرہ ہے آستاں
وہ مری زمیں مرا آسماں اسی رہ گزر کی تلاش ہے
ہیں تجھی سے حسن کی شوخیاں ہیں تجھی سے عشق کی گرمیاں
دل زندہ تیری تلاش ہی مری عمر بھر کی تلاش ہے
وہ بھی کیا مزے کی تھی زندگی جو سفر سفر میں گزر گئی
نہیں منزلوں میں وہ دل کشی مجھے پھر سفر کی تلاش ہے
جہاں رقص میں ہو کرن کرن جہاں غنچے چٹکیں چمن چمن
نظر آئے جس میں وہ سیم تن مجھے اس سحر کی تلاش ہے
یہ تبسم ان کا تھا لٹ گیا سر راہ دل کا یہ قافلہ
وہ جو بے خبر سا چلا گیا اسی بے خبر کی تلاش ہے
جہاں درد و داغ کی جستجو جہاں نت نئی نئی آرزو
کہ جسے تلاش سکوں نہیں مجھے اس جگر کی تلاش ہے
- کتاب : نغمۂ زندگی (Pg. 26)
- Author : جے کرشن چودھری حبیب
- مطبع : جے کرشن چودھری حبیب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.