وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا

تیمور حسن

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا

تیمور حسن

MORE BYتیمور حسن

    وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا

    یہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا

    نہ جانے کتنی غلط فہمیاں جنم لیتیں

    میں اصل بات سے پہلو تہی اگر کرتا

    میں سوچتا ہوں کہاں بات اس قدر بڑھتی

    اگر میں تیرے رویے سے در گزر کرتا

    مرا عدو تو تھا علم الکلام کا ماہر

    مرے خلاف زمانے کو بول کر کرتا

    اکیلے جنگ لڑی جیت لی تو سب نے کہا

    پہنچتے ہم بھی اگر تو ہمیں خبر کرتا

    مری بھی چھاؤں نہ ہوتی اگر تمہاری طرح

    میں انحصار بزرگوں کے سائے پر کرتا

    سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہے

    یہ آرزو تھی مرے ساتھ تو سفر کرتا

    گئے دنوں میں یہ معمول تھا مرا تیمورؔ

    زیادہ وقت میں اک خواب میں بسر کرتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY