وہ میرے قلب کو چھیدے گا کب گمان میں تھا

آتش بہاولپوری

وہ میرے قلب کو چھیدے گا کب گمان میں تھا

آتش بہاولپوری

MORE BYآتش بہاولپوری

    وہ میرے قلب کو چھیدے گا کب گمان میں تھا

    جو ایک تیر مرے دوست کی کمان میں تھا

    وہ زیر سایۂ الطاف باغبان میں تھا

    جو آشیانہ زد برق بے امان میں تھا

    فگار لے سے ہوا میری سینۂ نے بھی

    نفس نفس تری چاہت کا امتحان میں تھا

    یہ معجزہ تھا یقیناً تری محبت کا

    جو اوج فکر و تخیل مرے بیان میں تھا

    وہ جس نے دھوپ کی پرچھائیں تک نہیں دابی

    اسے سمجھتے ہو ہر لمحہ سائبان میں تھا

    مخالفوں کو بھی اپنا بنا لیا تو نے

    عجیب طرح کا جادو تری زبان میں تھا

    نیاز عشق نے آخر اٹھا دیا آتشؔ

    وہ ایک پردہ سا حائل جو درمیان میں تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Jada-e-manzil (Pg. 15)
    • Author : Atish Bahawalpuri
    • مطبع : Nirali Duniya Publications (2001)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY