وہ تنہا تھا تو پھر تنہائی کا دم ساز ہونا تھا

اشفاق حسین

وہ تنہا تھا تو پھر تنہائی کا دم ساز ہونا تھا

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    وہ تنہا تھا تو پھر تنہائی کا دم ساز ہونا تھا

    ان آنکھوں کے لیے مجھ کو ستارہ ساز ہونا تھا

    سبھی خاموش تھے آواز پر اس کی سو ایسے میں

    مجھے چپ تو نہیں رہنا تھا ہم آواز ہونا تھا

    جو دل میں تھا وہ اک ویران گنبد ہی میں کہہ دیتا

    یہ میرا عہد تھا مجھ کو اثر انداز ہونا تھا

    مرے لب پر زمانے کی شکایت کس لیے آئی

    اگر یہ شور تھا تو اس کو بے آواز ہونا تھا

    نہ جانے مجھ سے کتنے لوگ تھے جو سوچتے یہ تھے

    کہ ان سے اک نئی تاریخ کا آغاز ہونا تھا

    جہاں زخمی تمناؤں کی سرحد ختم ہوتی تھی

    وہاں سے اک نئی امید کا آغاز ہونا تھا

    یہ کار عشق تھا اشفاقؔ مجھ سے ہو نہیں پایا

    مجھے بھی شاعری میں صاحب اعجاز ہونا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : اردو غزل کا مغربی دریچہ(یورپ اور امریکہ کی اردو غزل کا پہلا معتبر ترین انتخاب) (Pg. 505)
    • مطبع : کتاب سرائے بیت الحکمت لاہور کا اشاعتی ادارہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY