وہ ظلم و ستم ڈھائے اور مجھ سے وفا مانگے

فردوس گیاوی

وہ ظلم و ستم ڈھائے اور مجھ سے وفا مانگے

فردوس گیاوی

MORE BYفردوس گیاوی

    وہ ظلم و ستم ڈھائے اور مجھ سے وفا مانگے

    جیسے کوئی گل کر کے دیپک سے ضیا مانگے

    جینا بڑی نعمت ہے جینے کا چلن سیکھیں

    اچھا تو نہیں کوئی مرنے کی دعا مانگے

    غم بھی ہے اداسی بھی تنہائی بھی آنسو بھی

    سب کچھ تو میسر ہے دل مانگے تو کیا مانگے

    آئین وطن پر تو دل وار چکے اپنا

    ناموس وطن ہم سے اب رنگ حنا مانگے

    اوقات ہے کیا اس کی وہ پیش نظر رکھے

    انساں نہ کوئی اپنے دامن سے سوا مانگے

    رمتا ہوا جوگی ہوں بہتا ہوا پانی ہوں

    ہرگز نہ کوئی مجھ سے اب میرا پتا مانگے

    پھر چہرۂ قاتل کی نظروں کو ضرورت ہے

    پھر کوچۂ قاتل کی دل آب و ہوا مانگے

    وہ سیر گلستاں کو فردوسؔ جو آ جائے

    مسکان کلی چاہے رفتار صبا مانگے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY