وسعت دامان دل کو غم تمہارا مل گیا

سالک لکھنوی

وسعت دامان دل کو غم تمہارا مل گیا

سالک لکھنوی

MORE BYسالک لکھنوی

    وسعت دامان دل کو غم تمہارا مل گیا

    زندگی کو زندگی بھر کا سہارا مل گیا

    ہر دل درد آشنا میں دل ہمارا مل گیا

    پارہ پارہ ہو چکا تھا پارا پارا مل گیا

    ہم کہ میخانے کے وارث تھے ہیں اب تک تشنہ لب

    چند کم ظرفوں کو صہبا کا اجارا مل گیا

    جس نے خالی جام پٹکا اس مجاہد کو سلام

    میکدے میں آج پیاسوں کو اشارا مل گیا

    نا خدا یہ دونوں ساحل ایک ہی دریا کے ہیں

    یہ کنارہ مل گیا یا وہ کنارا مل گیا

    ہم نے اپنے قافلے میں اس کو شامل کر لیا

    جو تھکا ہارا ملا جو غم کا مارا مل گیا

    پھر کوئی عیسیٰ فراز دار کی زینت بنا

    پھر کسی تاریک شب کو اک ستارا مل گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY