یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو

جلالؔ لکھنوی

یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو

جلالؔ لکھنوی

MORE BYجلالؔ لکھنوی

    یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو

    دل ہی نہیں سینہ میں تو بہلائے گی کس کو

    دم کھنچتا ہے کیوں آج یہ رگ رگ سے ہمارا

    کیا جانے ادھر دل کی کشش لائے گی کس کو

    اٹھنے ہی نہیں دیتی ہے جب یاس بٹھا کر

    پھر شوق کی ہمت کہیں لے جائے گی کس کو

    جب مار ہی ڈالا ہمیں بے تابئ دل نے

    کروٹ شب فرقت میں بدلوائے گی کس کو

    مر جائیں گے بے موت غم ہجر کے مارے

    آئے گی تو اب زندہ اجل پائے گی کس کو

    اچھا رہے تصویر کسی کی مرے دل پر

    کمبخت نہ ٹھہرے گا تو ٹھہرائے گی کس کو

    کچھ بیٹھ گیا دل ہی یہاں بیٹھ کے اپنا

    غیرت تری محفل سے اب اٹھوائے گی کس کو

    اس وعدہ خلافی نے اگر جان ہی لے لی

    پھر جھوٹی تسلی تری تڑپائے گی کس کو

    کیوں لیں گے جلالؔ آ کے مرے دل میں وہ چٹکی

    جھپکے گی پلک کاہے کو نیند آئے گی کس کو

    مأخذ :
    • کتاب : Intekhab-e-kalam  Miir Zamin Ali Jalal (Pg. 75)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY