یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

اختر شیرانی

یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    یاد آؤ مجھے للہ نہ تم یاد کرو

    اپنی اور میری جوانی کو نہ برباد کرو

    شرم رونے بھی نہ دے بیکلی سونے بھی نہ دے

    اس طرح تو مری راتوں کو نہ برباد کرو

    حد ہے پینے کی کہ خود پیر مغاں کہتا ہے

    اس بری طرح جوانی کو نہ برباد کرو

    یاد آتے ہو بہت دل سے بھلانے والو

    تم ہمیں یاد کرو تم ہمیں کیوں یاد کرو

    آسماں رتبہ محل اپنے بنانے والو

    دل کا اجڑا ہوا گھر بھی کوئی آباد کرو

    ہم کبھی آئیں ترے گھر مگر آئیں گے ضرور

    تم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ نہیں یاد کرو

    چاندنی رات میں گل گشت کو جب جاتے تھے

    آہ عذرا کبھی اس وقت کو بھی یاد کرو

    میں بھی شائستۂ الطاف ستم ہوں شاید

    میرے ہوتے ہوئے کیوں غیر پہ بیداد کرو

    صدقے اس شوخ کے اخترؔ یہ لکھا ہے جس نے

    عشق میں اپنی جوانی کو نہ برباد کرو

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Akhtar Shirani (Pg. 247)
    • Author : Akhtar Shirani
    • مطبع : Modern Publishing House, Daryaganj New delhi (1997)
    • اشاعت : 1997

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY