یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیں

امام بخش ناسخ

یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیں

    ہائے وہ پیار کی آواز وہ پیاری باتیں

    پہروں چپ رہتے ہیں ہم اور اگر بولتے ہیں

    وہی پھر پھر کے الٹتی ہیں تمہاری باتیں

    غیر ہر دم مجھے باتیں جو سنا جاتے ہیں

    جانتا ہوں یہ میں اے جان تمہاری باتیں

    یاد آتا ہے ترا کیا کے عوض کا کہنا

    ہائے پھر کب میں سنوں گا وہ گنواری باتیں

    ہے بری بات یہ اغیار سے باتیں کرنی

    ورنہ اے جان تری اچھی ہیں ساری باتیں

    اس طرح بول نکلتے نہ سنے تھے ہم نے

    کرتی ہے صاف صنم تیری ستاری باتیں

    تو وہ اعجاز بیاں ہے کہ مسیحا سمجھیں

    سن لیں اے جان کسی دن جو جواری باتیں

    اس لیے اشک بہاتا ہوں دم فکر سخن

    کہ ہمیشہ رہیں دنیا میں یہ جاری باتیں

    تو وہ گل ہے کہ اگر کان دھرے گلشن میں

    ہو زباں موج کرے باد بہاری باتیں

    کیجیے سحر بیانی سے مسخر کیوں کر

    کبھی سنتا نہیں ناسخؔ وہ ہماری باتیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY