یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے

تعشق لکھنوی

یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے

تعشق لکھنوی

MORE BYتعشق لکھنوی

    یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھے

    باغبان چمن محفل جاناں ہم تھے

    قابل قتل نہ اے لشکر مژگاں ہم تھے

    دل کی اجڑی ہوئی بستی کے نگہباں ہم تھے

    دھجیاں جیب کی ہاتھوں میں ہیں آج اے وحشت

    جامہ زیبوں سے کبھی دست و گریباں ہم تھے

    جان لی گیسوؤں نے الفت رخ میں آخر

    کافروں نے ہمیں مارا کہ مسلماں ہم تھے

    غیر کے گھر کی طرف کے جو اٹھے تھے پردے

    عطر بالوں میں وہ ملتے تھے پریشاں ہم تھے

    قفس تنگ میں گھٹ گھٹ کے نہ مرتے کیوں کر

    ناز پروردۂ آغوش گلستاں ہم تھے

    روح تڑپی ہے پئے لالۂ صحرا کیا کیا

    فصل گل جوش پہ تھی قیدئ زنداں ہم تھے

    دل کے دینے میں تأمل ہمیں ہوتا کیوں کر

    یہ حسینوں کی امانت تھی نگہباں ہم تھے

    آج تھی شب کو بہت داغ جگر میں سوزش

    کہتی تھی ان کی ملاحت نمک افشاں ہم تھے

    شعلۂ حسن سے تھا دود دل اپنا اول

    آگ دنیا میں نہ آئی تھی کہ سوزاں ہم تھے

    ہر طرف دہر میں تھا زلف کی زنجیر کا گل

    مگر اے جوش جنوں سلسلہ جنباں ہم تھے

    قافلے رات کو آتے تھے ادھر جان کے آگ

    دشت غربت میں جدھر اے دل سوزاں ہم تھے

    کہتے ہیں عارض محبوب کہ تھی رات جو گرم

    چاند پر اوس پڑی تھی عرق افشاں ہم تھے

    طوق منت کے گلے میں تھے وہ دن یاد کرو

    تم پر اس عہد میں بھی چاک گریباں ہم تھے

    دیتے پھرتے تھے حسینوں کی گلی میں آواز

    کبھی آئینہ فروش دل حیراں ہم تھے

    ڈوب جاتے ہیں جو رہ رہ کے تعشقؔ تارے

    مثل ابر آخر شب وصل میں گریاں ہم تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے