یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں

پیرزادہ قاسم

یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں

پیرزادہ قاسم

MORE BY پیرزادہ قاسم

    یاد کیا دست ہنر ہے کہ سنورتا گیا میں

    اس کو سوچا تو اسے یاد ہی کرتا گیا میں

    اس کو تہذیب جنوں کہیے کہ مجھ سے پہلے

    جیسے بکھرے ہیں سبھی لوگ بکھرتا گیا میں

    نقش کتنے تھے کہ معدوم ہوئے سلسلہ وار

    اور ہر نقش کے پہلے سے ابھرتا گیا میں

    ایک تصویر بنائی تھی مکمل نہ ہوئی

    ایک ہی رنگ لہو رنگ تھا بھرتا گیا میں

    حرف اقرار ہی کہتا رہا بے خوفی سے

    یعنی انکار کے آشوب سے ڈرتا گیا میں

    دامن وقت سے سو حرف ستائش بھی چنے

    اور الزام سبھی وقت پہ دھرتا گیا میں

    اپنے اندر کے تلاطم نے رکھا ہے آباد

    خود ہی اقرار کیا خود ہی مکرتا گیا میں

    مجھ میں ہر لمحہ فزوں تر ہوا اندوہ جمال

    اور تصویر کے مانند سنورتا گیا میں

    ہر نفس بڑھتا گیا اس کی تمنا کا خروش

    لمحہ لمحہ اسی وحشت میں نکھرتا گیا میں

    زندگی کوئے ملامت ہے کوئی کیا ٹھہرے

    اپنی ہی وضع کا میں ہوں سو ٹھہرتا گیا میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY