یہاں سے ہے کہانی رات والی

خالد محمود

یہاں سے ہے کہانی رات والی

خالد محمود

MORE BY خالد محمود

    یہاں سے ہے کہانی رات والی

    کہ وہ اک رات تھی برسات والی

    کہا تھا جو وہی کر کے دکھایا

    وہ برق بے اماں تھی بات والی

    بڑی لمبی پلاننگ کر رہی ہے

    ہماری زندگی لمحات والی

    کسی کی بھی نہیں ہوتی یہ دنیا

    کہ اس کی ذات ہے بد ذات والی

    ہمارا حوصلہ ہے زندگی سے

    لڑے جاتے ہیں کشتی مات والی

    نہ اب گھر میں وہ تہذیبی توازن

    نہ اب وہ کوٹھری جنات والی

    جسے دیکھو چھپا پھرتا ہے خالدؔ

    جماعت آ گئی میوات والی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY