یہی بہت ہے کہ احباب پوچھ لیتے ہیں

اطہر ناسک

یہی بہت ہے کہ احباب پوچھ لیتے ہیں

اطہر ناسک

MORE BYاطہر ناسک

    یہی بہت ہے کہ احباب پوچھ لیتے ہیں

    مرے اجڑنے کے اسباب پوچھ لیتے ہیں

    میں پوچھ لیتا ہوں یاروں سے رت جگوں کا سبب

    مگر وہ مجھ سے مرے خواب پوچھ لیتے ہیں

    اسی گلی سے جہاں آفتاب ابھرا ہے

    کہاں گیا ہے وہ مہتاب، پوچھ لیتے ہیں

    اب آ گئے ہیں تو اس دشت کے فقیروں سے

    رموز منبر و محراب پوچھ لیتے ہیں

    کسی کو جا کے بتاتے ہیں حال دل ناسکؔ

    کسی سے ہجر کے آداب پوچھ لیتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے