یقیں ہے جس پہ وہی بد گماں نکلتا ہے

خورشید اکبر

یقیں ہے جس پہ وہی بد گماں نکلتا ہے

خورشید اکبر

MORE BY خورشید اکبر

    یقیں ہے جس پہ وہی بد گماں نکلتا ہے

    مری زمین سے اس کا مکاں نکلتا ہے

    ہمارے شہر میں ہوتا ہے سانحہ لیکن

    خطا کہاں کی ہے غصہ کہاں نکلتا ہے

    یہ اور بات کہ وہ پاک سر زمیں ہے مگر

    وہاں کی خاک سے ہندوستاں نکلتا ہے

    مرے لیے تو اکیلا خدا بہت ہے مگر

    تمہارے واسطے سارا جہاں نکلتا ہے

    سیاہ رات ستارے بجھاتی رہتی ہے

    یہ میرا خواب ستارہ کہاں نکلتا ہے

    سفر ہے دھوپ سمندر کا اور جزیرے سا

    کہیں کہیں پہ کوئی سائباں نکلتا ہے

    منا رہا ہے وہ جشن شباب مقتل میں

    ہر ایک لاش کا چہرہ جواں نکلتا ہے

    تمہارے گھر میں ابھی کتنی روشنی ہوگی

    ہمارے گھر سے ابھی تک دھواں نکلتا ہے

    کہا کسی نے سیہ پوش ہو گیا خورشیدؔ

    سنا کسی نے دم کہکشاں نکلتا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : FALAK PAHLOO MEIN (Pg. 84)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY