یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہے

ظفر گورکھپوری

یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہے

ظفر گورکھپوری

MORE BYظفر گورکھپوری

    یقین کو سینچنا ہے خوابوں کو پالنا ہے

    بچا ہے تھوڑا سا جو اثاثہ سنبھالنا ہے

    سوال یہ ہے چھڑا لیں مسئلوں سے دامن

    کہ ان میں رہ کر ہی کوئی رستہ نکالنا ہے

    جہان سوداگری میں دل کا وکیل بن کر

    اس عہد کی منصفی کو حیرت میں ڈالنا ہے

    جو مجھ میں بیٹھا اڑاتا رہتا ہے نیند میری

    مجھے اب اس آدمی کو باہر نکالنا ہے

    زمین زخموں پہ تیرے مرہم بھی ہم رکھیں گے

    ابھی گڑی سوئیوں کو تن سے نکالنا ہے

    کسی کو میدان میں اترنا ہے جیتنا ہے

    کسی کو تا عمر صرف سکہ اچھالنا ہے

    یہ ناؤ کاغذ کی جس نے ندی تو پار کر لی

    کچھ اور سیکھے اب اس کو دریا میں ڈالنا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY