یہ بات الگ ہے مرا قاتل بھی وہی تھا

ظفر اقبال

یہ بات الگ ہے مرا قاتل بھی وہی تھا

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    یہ بات الگ ہے مرا قاتل بھی وہی تھا

    اس شہر میں تعریف کے قابل بھی وہی تھا

    آساں تھا بہت اس کے لیے حرف مروت

    اور مرحلہ اپنے لیے مشکل بھی وہی تھا

    تعبیر تھی اپنی بھی وہی خواب سفر کی

    افسانۂ محرومی منزل بھی وہی تھا

    اک ہاتھ میں تلوار تھی اک ہاتھ میں کشکول

    ظالم تو وہ تھا ہی مرا سائل بھی وہی تھا

    ہم آپ کے اپنے ہیں وہ کہتا رہا مجھ سے

    آخر صف اغیار میں شامل بھی وہی تھا

    میں لوٹ کے آیا تو گلستان ہوس میں

    تھا گل بھی وہی شور عنادل بھی وہی تھا

    دعوے تھے ظفرؔ اس کو بہت با خبری کے

    دیکھا تو مرے حال سے غافل بھی وہی تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY