یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوا

جرأت قلندر بخش

یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوا

جرأت قلندر بخش

MORE BYجرأت قلندر بخش

    یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوا

    اٹھ چلا دنیا سے کیوں تو تجھ کو اے دل کیا ہوا

    شکل ہی ایسی بنائی ہے تری اللہ نے

    مت خفا ہو گر ہوا میں تجھ پہ مائل کیا ہوا

    ان دنوں حالت تری پاتا ہوں میں اپنی سی یار

    خوبرو تجھ سا کوئی تیرے مقابل کیا ہوا

    اے بت خونخوار اک زخمی ترے کوچے میں تھا

    سو کئی دن سے خدا جانے وہ گھائل کیا ہوا

    زنگ ہو کر قیس کا دل کارواں در کارواں

    نت یہ کہتا ہے کہ وہ لیلیٰ کا محمل کیا ہوا

    فکر مرہم مت کرو یارو یہ بتلاؤ مجھے

    جس کے ہاتھوں میں ہوا زخمی وہ قاتل کیا ہوا

    تھا جگر تو ٹکڑے ٹکڑے بر میں کیوں تڑپے ہے تو

    کیوں دلا تیغ جفا سے تو بھی بسمل کیا ہوا

    رنجشیں ایسی ہزار آپس میں ہوتی ہیں دلا

    وہ اگر تجھ سے خفا ہے تو ہی جا مل کیا ہوا

    اپنے بیگانے سبھی ہیں مت اٹھا محفل سے یار

    گر کسی ڈھب سے ہوا یاں میں بھی داخل کیا ہوا

    دیکھتے ہی تیری صورت مجھ کو اے آئینہ رو

    سخت حیرت ہے کہ پہلو میں نہیں دل کیا ہوا

    سوچ رہ رہ کر یہی آتا ہے اے جرأتؔ مجھے

    خلق کرنے سے مرے خالق کو حاصل کیا ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY