Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے

جگر مراد آبادی

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے

جگر مراد آبادی

MORE BYجگر مراد آبادی

    یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے

    یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے

    جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو

    یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے

    کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے

    مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یے تو میکدے کا نظام ہے

    یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے

    جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے

    تجھے اپنے حسن کا واسطہ میرے شوق دید پہ رحم کھا

    ذرا مسکرا کے نقاب اٹھا کہ نظر کو شوق سلام ہے

    نہ سنا تو حور و قصور کی یہ حکایتیں مجھے واعظا

    کوئی بات کر در یار کی در یار ہی سے تو کام ہے

    نہ تو اعتکاف سے کچھ غرض نہ ثواب و زہد سے واسطہ

    تری دید ایسی نماز ہے نہ سجود ہے نہ قیام ہے

    یہ درست کہ عیب ہے مے کشی یہ بجا کہ بادہ حرام ہے

    مگر اب سوال یہ آ پڑا کہ تمھارے ہاتھ میں جام ہے

    جو اٹھی تو صبح دوام تھی جو جھکی تو شام ہی شام تھی

    تری چشم مست میں ساقیا مری زندگی کا نظام ہے

    مرا فرض ہے کہ پڑا رہوں تری بارگاہ میں ساقیا

    کوئی تشنہ لب ہے کہ سیر ہے یہی دیکھنا ترا کام ہے

    اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر

    کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے