یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے بدلتا ہی نہیں

آفتاب اقبال شمیم

یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے بدلتا ہی نہیں

آفتاب اقبال شمیم

MORE BYآفتاب اقبال شمیم

    یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے بدلتا ہی نہیں

    واقعہ پردۂ ساعت سے نکلتا ہی نہیں

    آگ سے تیز کوئی چیز کہاں سے لاؤں

    موم سے نرم ہے وہ اور پگھلتا ہی نہیں

    یہ مری خمس حواسی کی تماشا گاہیں

    تنگ ہیں ان میں مرا شوق بہلتا ہی نہیں

    پیکر خاک ہیں اور خاک میں ہے ثقل بہت

    جسم کا وزن طلب ہم سے سنبھلتا ہی نہیں

    غالباً وقت مجھے چھوڑ گیا ہے پیچھے

    یہ جو سکہ ہے مری جیب میں چلتا ہی نہیں

    ہم پہ غزلیں بھی نمازوں کی طرح فرض ہوئیں

    قرض نا خواستہ ایسا ہے کہ ٹلتا ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY