یہ کہاں سے موج طرب اٹھی کہ ملال دل سے نکل گئے

فرید جاوید

یہ کہاں سے موج طرب اٹھی کہ ملال دل سے نکل گئے

فرید جاوید

MORE BYفرید جاوید

    یہ کہاں سے موج طرب اٹھی کہ ملال دل سے نکل گئے

    وہی صبح و شام جو تھے گراں نفس بہار میں ڈھل گئے

    یہ دیار شوق ہے ہم نشیں یہاں لغزشوں میں بھی حسن ہے

    جو مٹے وہ اور ابھر گئے جو گرے وہ اور سنبھل گئے

    حسیں زندگی کی تلاش تھی ہمیں سر خوشی کی تلاش تھی

    ہوئے زندگی سے جو آشنا تو جراحتوں سے بہل گئے

    ترے سوگواروں کی زندگی کبھی مطمئن نہ گزر سکی

    جو بجھی کبھی کوئی تشنگی کئی اور درد مچل گئے

    مری آرزوؤں کے خواب تھے کہ فضائے حسن و شباب تھے

    کہیں نکہتوں میں بکھر گئے کہیں رنگ و نور میں ڈھل گئے

    انہیں راحتوں کا خیال ہے نہ صعوبتوں کا ملال ہے

    جو تری تلاش میں چل پڑے جو تری طلب میں نکل گئے

    ہے بھری بہار تو کیا کروں نہ ملے قرار تو کیا کروں

    مرے سامنے ہیں وہ آشیاں جو بھری بہار میں جل گئے

    مآخذ:

    • کتاب : Naya Daur, Karachi(Shumara Number-047,048) (Pg. 417)
    • Author : Qamar Sultana
    • مطبع : Pakistan Culture Society Karachi

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY