یہ کیسا کار دنیا ہو رہا ہے

نبیل احمد نبیل

یہ کیسا کار دنیا ہو رہا ہے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    یہ کیسا کار دنیا ہو رہا ہے

    لہو انساں کا سستا ہو رہا ہے

    ذرا حالات کیا بدلے ہمارے

    جو اپنا تھا پرایا ہو رہا ہے

    دلوں کا میل بڑھتا جا رہا ہے

    بشر اندر سے کالا ہو رہا ہے

    گھٹائیں خشک ہوتی جا رہی ہیں

    جو دریا تھا وہ صحرا ہو رہا ہے

    یہی ہوتا رہا ہے ہم سے اکثر

    ہمارے ساتھ جیسا ہو رہا ہے

    قدم پڑنے لگے ہیں سب کے الٹے

    ہر اک رستہ ہی ٹیڑھا ہو رہا ہے

    نبیلؔ احمد کبھی دیکھا ہے تم نے

    بشر کتنا اکیلا ہو رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY