یہ کیسی آگ ابھی اے شمع تیرے دل میں باقی ہے

بسمل الہ آبادی

یہ کیسی آگ ابھی اے شمع تیرے دل میں باقی ہے

بسمل الہ آبادی

MORE BYبسمل الہ آبادی

    دلچسپ معلومات

    مشاعرہ الہ آباد 19؍ جولائی 1924

    یہ کیسی آگ ابھی اے شمع تیرے دل میں باقی ہے

    کوئی پروانہ جل مرنے کو کیا محفل میں باقی ہے

    ہزاروں اٹھ گئے دنیا سے اپنی جان دے دے کر

    مگر اک بھیڑ پھر بھی کوچۂ قاتل میں باقی ہے

    ہوئے وہ مطمئن کیوں صرف میرے دم نکلنے پر

    ابھی تو ایک دنیائے تمنا دل میں باقی ہے

    ہوا تھا غرق بحر عشق اس انداز سے کوئی

    کہ نقشہ ڈوبنے کا دیدۂ‌ ساحل میں باقی ہے

    قضا سے کوئی یہ کہہ دے کہ مشتاق شہادت ہوں

    ابھی اک مرنے والا کوچۂ قاتل میں باقی ہے

    کہاں فرصت ہجوم رنج و غم سے ہم جو یہ جانچیں

    کہ نکلی کیا تمنا کیا تمنا دل میں باقی ہے

    ابھی سے اپنا دل تھامے ہوئے کیوں لوگ بیٹھے ہیں

    ابھی تو حشر اٹھنے کو تری محفل میں باقی ہے

    وہاں تھے جمع جتنے مرنے والے مر گئے وہ سب

    قضا لے دے کے بس اب کوچۂ قاتل میں باقی ہے

    ابھی سے تو نے قاتل میان میں تلوار کیوں رکھ لی

    ابھی تو جان تھوڑی سی تن بسملؔ میں باقی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY