یہ کس کو جاگ جاگ کے تاروں کی چھاؤں میں

رشید کوثر فاروقی

یہ کس کو جاگ جاگ کے تاروں کی چھاؤں میں

رشید کوثر فاروقی

MORE BY رشید کوثر فاروقی

    یہ کس کو جاگ جاگ کے تاروں کی چھاؤں میں

    ہم مانگتے ہیں پچھلے پہر کی دعاؤں میں

    کرنیں ابھی تو گم ہیں گھنیری گھٹاؤں میں

    بہہ جائیں گی گھٹائیں کہ کرنیں ہواؤں میں

    جنت کو دور دور تو ڈھونڈا گیا مگر

    قدموں تلے نہ ماں کے نہ تیغوں کی چھاؤں میں

    خشکی کے رہبروں سے تو یہ بھی نہ ہو سکا

    کچھ تو خدا کا نام چلا ناخداؤں میں

    یارب قفس ہے یا کہ چمن کیا ہے یہ جہاں

    الجھے پڑے ہیں پھول کٹیلی لتاؤں میں

    دیوانہ مست حال ہے اس کو خبر کہاں

    جھانجھن پڑی ہوئی ہے کہ زنجیر پاؤں میں

    دونوں کو اپنے دیس کی مٹی پہ ناز ہے

    سانپوں کی بانبیاں بھی ہیں پھولوں کے گاؤں میں

    سب چل پڑیں جو خلد کو جاتی ہو کوئی راہ

    گل مہر کی دو رویہ قطاروں کی چھاؤں میں

    ہم شیخ سے یہ کہہ کے سوئے دیر چل دیے

    رکھیے گا یاد ہم کو بھی اپنی دعاؤں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY