یہ کس وحشت زدہ لمحے میں داخل ہو گئے ہیں

عزیز نبیل

یہ کس وحشت زدہ لمحے میں داخل ہو گئے ہیں

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    یہ کس وحشت زدہ لمحے میں داخل ہو گئے ہیں

    ہم اپنے آپ کے مد مقابل ہو گئے ہیں

    کئی چہرے مری سوچوں سے زائل ہو گئے ہیں

    کئی لہجے مرے لہجے میں شامل ہو گئے ہیں

    خدا کے نام سے طوفان میں کشتی اتاری

    بھنور جتنے سمندر میں تھے، ساحل ہو گئے ہیں

    وہ کچھ پل جن کی ٹھنڈی چھاؤں میں تم ہو ہمارے

    وہی کچھ پل تو جیون بھر کا حاصل ہو گئے ہیں

    الجھتے جا رہے ہیں جستجو کے پر مسلسل

    زمیں تا آسماں کتنے مسائل ہو گئے ہیں!

    نبیلؔ آواز بھی اپنی کہاں تھی مدتوں سے

    جو تم آئے تو ہم یک لخت محفل ہو گئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY