یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

انجم سلیمی

یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

انجم سلیمی

MORE BYانجم سلیمی

    یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں

    اس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں

    چھینٹ اک اڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کھلا

    ایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں

    میری پیشانی پہ اس بل کی جگہ ہے ہی نہیں

    صبر کے ساتھ جو ہموار پڑا ہے مجھ میں

    ہر تعلق کو محبت سے نبھا لیتا ہے

    دل ہے یا کوئی اداکار پڑا ہے مجھ میں

    میرا دامن بھی کوئی دست ہوس کھینچتا ہے

    ایک میرا بھی خریدار پڑا ہے مجھ میں

    کس نے آباد کیا ہے مری ویرانی کو

    عشق نے؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں

    میرے اکسانے پہ میں نے مجھے برباد کیا

    میں نہیں میرا گنہ گار پڑا ہے مجھ میں

    مشورہ لینے کی نوبت ہی نہیں آ پاتی

    ایک سے ایک سمجھ دار پڑا ہے مجھ میں

    اے برابر سے گزرتے ہوئے دکھ تھم تو سہی

    تجھ پہ رونے کو عزا دار پڑا ہے مجھ میں

    میرا ہونا مرے ہونے کی گواہی تو نہیں

    میرے آگے مرا انکار پڑا ہے مجھ میں

    بھوک ایسی ہے کہ میں خود کو بھی کھا سکتا ہوں

    کیسا یہ قحط لگاتار پڑا ہے مجھ میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY