یہ مسکراتے تمام سائے ہوئے پرائے تو کیا کرو گے

طاہر عدیم

یہ مسکراتے تمام سائے ہوئے پرائے تو کیا کرو گے

طاہر عدیم

MORE BYطاہر عدیم

    یہ مسکراتے تمام سائے ہوئے پرائے تو کیا کرو گے

    ہوا نے جب بھی مرے بدن کے دیے بجھائے تو کیا کرو گے

    تمہاری خواہش پہ عمر بھر کی جدائیاں بھی قبول کر لوں

    مگر بتاؤ بغیر میرے جو رہ نہ پائے تو کیا کرو گے

    وہ جن میں میرے عذاب تیرے سراب ابھرے یا خواب ڈوبے

    وہ سارے لمحے تمہاری جانب پلٹ کے آئے تو کیا کرو گے

    بغیر در کے کسی بھی گھر میں گھرے ہوئے ہو یہ فرض کر لو

    اور ایسے عالم میں مل سکے نہ جو میری رائے تو کیا کرو گے

    ابھی تو میرے غلاف ہاتھوں میں مطمئن ہیں پہ بعد میرے

    جو آندھیوں میں چراغ اپنے یہ تھرتھرائے تو کیا کرو گے

    تمہاری آنکھوں میں عکس میرا اگر نہ ہوگا تو کیسا ہوگا

    سماعتوں کے شجر پہ پنچھی نہ چہچہائے تو کیا کرو گے

    کرو گے کیا جو مرے بدن سے دھوئیں کی اک دن لکیر اٹھی

    لکیر سے پھر ہزار چہرے نکل کے آئے تو کیا کرو گے

    وہ جن خیالوں میں رہ کے تم سے مری بھی پہچان کھو گئی ہے

    انہی خیالوں کے سب مسافر ہوئے پرائے تو کیا کرو گے

    یہ سوچتے ہو چلا گیا وہ تو چھت پہ جاؤ گے کس لیے تم

    کہ اب کے ساون کی بارشوں میں جو سب نہائے تو کیا کرو گے

    ہیں دسترس میں ابھی بھی طاہرؔ اٹھا کے اب اس کو پی بھی ڈالو

    مشاہدوں میں ہی ہو گئی گر یہ ٹھنڈی چائے تو کیا کرو گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے