یہ نقش ایسا نہیں ہے جسے مٹاؤں میں

محفوظ اثر

یہ نقش ایسا نہیں ہے جسے مٹاؤں میں

محفوظ اثر

MORE BYمحفوظ اثر

    یہ نقش ایسا نہیں ہے جسے مٹاؤں میں

    مجھے بتا کہ تجھے کیسے بھول جاؤں میں

    کوئی لکیر ہی روشن نہیں ہتھیلی پر

    نجومیوں کو بھلا ہاتھ کیا دکھاؤں میں

    بجھا بجھا سا نظر آ رہا ہے ہر کوئی

    فسانۂ غم ہستی کسے سناؤں میں

    یقیں کرو کہ مری جیت پھر یقینی ہے

    مگر کہو تو یہ بازی بھی ہار جاؤں میں

    نظر کے سامنے منزل کے راستے ہیں بہت

    یہ سوچتا ہوں قدم کس طرف بڑھاؤں میں

    یہ بات سچ ہے کہ بنیاد ہوں عمارت کی

    یہ اور بات کسی کو نظر نہ آؤں میں

    غم زمانہ سے فرصت کہاں اثرؔ صاحب

    دعا کو ہاتھ جو اپنے لئے اٹھاؤں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY