یہ تکلف یہ مدارات سمجھ میں آئے

عبرت مچھلی شہری

یہ تکلف یہ مدارات سمجھ میں آئے

عبرت مچھلی شہری

MORE BYعبرت مچھلی شہری

    یہ تکلف یہ مدارات سمجھ میں آئے

    ہو جدائی تو ملاقات سمجھ میں آئے

    روح کی پیاس پھواروں سے کہیں بجھتی ہے

    ٹوٹ کے برسے تو برسات سمجھ میں آئے

    جاگتے لب مرے اور اس کی جھپکتی آنکھیں

    نیند آئے تو کہاں بات سمجھ میں آئے

    لی تھی موہوم تحفظ کے گھروندے میں پناہ

    ریت جب بکھری تو حالات سمجھ میں آئے

    انگلیاں جسم کے سب عیب و ہنر جانتی ہیں

    لمس جاگے تو اک اک بات سمجھ میں آئے

    سیکڑوں ہاتھ مرے قتل میں ٹھہرے ہیں شریک

    ایک دو ہوں تو کوئی بات سمجھ میں آئے

    کبھی اترا ہی نہیں اس کے تکلف کا لباس

    ہو برہنہ تو ملاقات سمجھ میں آئے

    کوئی آساں نہیں جل جل کے سحر کر لینا

    شمع بن جاؤ تو پھر رات سمجھ میں آئے

    تم کسی ریت کے ٹیلے پہ کھڑے ہو عبرتؔ

    اٹھے طوفاں تو پھر اوقات سمجھ میں آئے

    مأخذ :
    • کتاب : Aansuwon Ki Barat (Pg. 116)
    • Author : Ibrat Machhali Shahri
    • مطبع : News Town Publishers (2013)
    • اشاعت : 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے