Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ

راجیندر منچندا بانی

یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    یہ ذرا سا کچھ اور ایک دم بے حساب سا کچھ

    سر شام سینے میں ہانپتا ہے سراب سا کچھ

    وہ چمک تھی کیا جو پگھل گئی ہے نواح جاں میں

    کہ یہ آنکھ میں کیا ہے شعلۂ زیر آب سا کچھ

    کبھی مہرباں آنکھ سے پرکھ اس کو کیا ہے یہ شے

    ہمیں کیوں ہے سینے میں اس سبب اضطراب سا کچھ

    وہ فضا نہ جانے سوال کرنے کے بعد کیا تھی

    کہ ہلے تو تھے لب ملا ہو شاید جواب سا کچھ

    مرے چار جانب یہ کھنچ گئی ہے قنات کیسی

    یہ دھواں ہے ختم سفر کا یا ٹوٹے خواب سا کچھ

    وہ کہے ذرا کچھ تو دل کو کیا کیا خلل ستائے

    کہ نہ جانے اس کی ہے بات میں کیا خراب سا کچھ

    نہ یہ خاک کا اجتناب ہی کوئی راستہ دے

    نہ اڑان بھرنے دے سر پہ یہ پیچ و تاب سا کچھ

    سر شرح و اظہار جانے کیسی ہوا چلی ہے

    کہ بکھر گیا ہے سخن سخن انتخاب سا کچھ

    یہ بہار بے ساختہ چلی آئی ہے کہاں سے

    تن زرد میں کھل اٹھا ہے پیلے گلاب سا کچھ

    ارے کیا بتائیں ہوائے امکاں کے کھیل کیا ہیں

    کہ دلوں میں بنتا ہے ٹوٹتا ہے حباب سا کچھ

    کبھی ایک پل بھی نہ سانس لی کھل کے ہم نے بانیؔ

    رہا عمر بھر بسکہ جسم و جاں میں عذاب سا کچھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے