یہ زندگی تو بہت کم ہے دوستی کے لئے

شارب لکھنوی

یہ زندگی تو بہت کم ہے دوستی کے لئے

شارب لکھنوی

MORE BYشارب لکھنوی

    دلچسپ معلومات

    (1970ء لکھنؤ)

    یہ زندگی تو بہت کم ہے دوستی کے لئے

    کہاں سے وقت نکلتا ہے دشمنی کے لئے

    یہ آتی جاتی ہوئی سانس زندگی کے لئے

    اک امتحان مسلسل ہے آدمی کے لئے

    یہ عہد نو کا اندھیرا ارے معاذ اللہ

    ترس رہے ہیں چراغ اپنی روشنی کے لئے

    انہیں گلوں کا تبسم تو دیکھ لینے دو

    تمام عمر جو ترسا کئے ہنسی کے لئے

    یہ اہل ہوش مرے راستے سے ہٹ جائیں

    بہت ہے میرا جنوں میری رہبری کے لئے

    کوئی رکے کہ چلے گر پڑے کہ تھک جائے

    گزرتا وقت ٹھہرتا نہیں کسی کے لئے

    کسے خبر تھی کہ جل جائے گا چمن شاربؔ

    چراغ ہم نے جلائے تھے روشنی کے لئے

    مأخذ :
    • کتاب : Firdaus-e-Nazar (Pg. 140)
    • Author : Sultan Haider Khan
    • مطبع : Urdu Acadami U.P

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY