یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں

باقی صدیقی

یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں

باقی صدیقی

MORE BYباقی صدیقی

    یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں

    اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

    پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے

    اب فقط ہاتھ اٹھا دیتے ہیں

    قافلہ آج کہاں ٹھہرے گا

    کیا خبر آبلہ پا دیتے ہیں

    بعض اوقات ہوا کے جھونکے

    لو چراغوں کی بڑھا دیتے ہیں

    دل میں جب بات نہیں رہ سکتی

    کسی پتھر کو سنا دیتے ہیں

    ایک دیوار اٹھانے کے لیے

    ایک دیوار گرا دیتے ہیں

    سوچتے ہیں سر ساحل باقیؔ

    یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : baar-e-safar (Pg. 46)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY