یوں بھی تو ستایا ہے تری جلوہ گری نے

شہاب سرمدی

یوں بھی تو ستایا ہے تری جلوہ گری نے

شہاب سرمدی

MORE BYشہاب سرمدی

    یوں بھی تو ستایا ہے تری جلوہ گری نے

    آنکھیں نہ ملائیں مری بالغ نظری نے

    منت کش پندار جنوں ہے دل پر خوں

    ان کا بھی سہارا نہ لیا بے خبری نے

    اے حسن دل آرا تری اک ایک ادا کو

    پروان چڑھایا مری حیرت نگری نے

    تھی مرحلۂ سخت وہ منزل کہ جہاں پر

    تم کو بھی سنبھالا مری آشفتہ سری نے

    تم خود ہی چلے آؤ گے شاید سر منزل

    اک راہ نکالی ہے مری در بدری نے

    اے خستگیٔ عشق چمن میں تو گزر کر

    پھولوں کا بھی رکھا ہے بھرم جامہ دری نے

    دن رات کئے ایک وہ طوفان اٹھایا

    غنچوں کے لئے موج نسیم سحری نے

    افسوس انہیں ذوق نظر ہی نے گرایا

    پردے جو اٹھائے تھے مری دیدہ وری نے

    چپ ہیں مہہ مریخ زمیں ہے متبسم

    کھینچا ہے ذرا طول امید بشری نے

    حیرت مجھے اس پر ہے شہابؔ سخن آرا

    تاکا نہ تجھے وسوسۂ ناموری نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY