یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں

قیصر صدیقی

یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں

قیصر صدیقی

MORE BYقیصر صدیقی

    یوں دل دیوانہ کو اکثر سزا دیتا ہوں میں

    اپنی بربادی پہ خود ہی مسکرا دیتا ہوں میں

    اپنے دل کے خون سے وہ گل کھلا دیتا ہوں میں

    ریگزاروں کو گلستاں کی ادا دیتا ہوں میں

    ایسی منزل پر مجھے پہنچا دیا ہے عشق نے

    میرا جو قاتل ہے اس کو بھی دعا دیتا ہوں میں

    کیوں کسی کا نام لے کر عشق کو رسوا کروں

    اپنے دل کی آگ کو خود ہی ہوا دیتا ہوں میں

    ذکر یوں کرتا ہوں اپنے غم کا اپنے درد کا

    ہوش والوں کو بھی دیوانہ بنا دیتا ہوں میں

    کیا گزرتی ہے مرے دل پر خدارا کچھ نہ پوچھ

    دشمنوں کو جب تلک گھر کا پتا دیتا ہوں میں

    اپنی ہی آواز خود لگتی ہے مجھ کو اجنبی

    جب اکیلے میں کبھی تجھ کو صدا دیتا ہوں میں

    نشتر یاد غم جاناں سے قیصرؔ ان دنوں

    زخم جو سوتے ہیں ان کو پھر جگا دیتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY