یوں سمایا ہے کہ اب سر سے نکلنے کا نہیں

احتشام حسن

یوں سمایا ہے کہ اب سر سے نکلنے کا نہیں

احتشام حسن

MORE BYاحتشام حسن

    یوں سمایا ہے کہ اب سر سے نکلنے کا نہیں

    میں جو چاہوں بھی تو اک ڈر سے نکلنے کا نہیں

    میں نے جو خوف پرویا تھا رگوں میں اپنی

    ایسا بیٹھا ہے کہ اندر سے نکلنے کا نہیں

    بعد کوشش کے نتیجہ یہ نکالا میں نے

    زندگی میں ترے چکر سے نکلنے کا نہیں

    کھینچ لاتے ہیں حقیقت میں حوادث ورنہ

    آدمی خواب کے محور سے نکلنے کا نہیں

    سر پٹختا نہیں پنجرے میں پرندہ یوں ہی

    شوق پرواز کبھی پر سے نکلنے کا نہیں

    اک سڑک اور مرا آٹھواں دسواں چکر

    اور مجھے علم ہے وہ گھر سے نکلنے کا نہیں

    اپنے اندر یوں چھپائے ہیں صنم پتھر نے

    بت کوئی تیشۂ آذر سے نکلنے کا نہیں

    غم دوراں بھی ہے یوں جیسے مرا یوم حساب

    میں تو دنیا میں بھی محشر سے نکلنے کا نہیں

    دھونس دیتا ہے یہ سورج مجھے ہر شام حسنؔ

    وہ جو ڈوبا تو سمندر سے نکلنے کا نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY