یوں تری راہ میں پڑے ہوئے ہیں

عابد عمر

یوں تری راہ میں پڑے ہوئے ہیں

عابد عمر

MORE BYعابد عمر

    یوں تری راہ میں پڑے ہوئے ہیں

    جیسے درگاہ میں پڑے ہوئے ہیں

    غم ہیں جتنے بھی اس زمانے کے

    میری اک آہ میں پڑے ہوئے ہیں

    میرے بچوں کے خواب تو فی الحال

    چھوٹی تنخواہ میں پڑے ہوئے ہیں

    بچ کے نکلے جو موت کے منہ سے

    یاد اللہ میں پڑے ہوئے ہیں

    کب کسی کی ہوئی ہے یہ دنیا

    ہم عبث چاہ میں پڑے ہوئے ہیں

    خاک ہونا نصیب ہے لیکن

    حشمت و جاہ میں پڑے ہوئے ہیں

    اک نظر ہم پہ مہوش اعظم

    تیرے کنجاہ میں پڑے ہوئے ہیں

    کچھ غرض ہی نہیں جسے ہم سے

    اس کی پرواہ میں پڑے ہوئے ہیں

    جن کو زنداں میں ہونا چاہیے تھا

    حجرۂ شاہ میں پڑے ہوئے ہیں

    آپ سے ہم کلام ہے عابدؔ

    لوگ کیوں واہ میں پڑے ہوئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے