یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہر

عاشق حسین بزم آفندی

یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہر

عاشق حسین بزم آفندی

MORE BYعاشق حسین بزم آفندی

    یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہر

    چاہوں جو نہ تجھ کو یہ ہے امکان سے باہر

    اس روئے کتابی پہ پسینہ ہے نہ غازہ

    شاید ہے تر و خشک اسی قرآن سے باہر

    مر کر بھی میں وحشت ہی کے قابو میں رہوں گا

    خاک اڑ کے نہ جائے گی بیابان سے باہر

    ہے قبضۂ قدرت میں غم عشق حقیقی

    اب چرخ یہ کھانا ہے ترے خوان سے باہر

    ڈیوڑھی میں محل کی ہمیں جو چاہے سنا لے

    سمجھیں گے کسی دن ترے دربان سے باہر

    گوش دل و جاں میں ہیں امانت تری باتیں

    موتی کبھی نکلیں گے نہ اس کان سے باہر

    گھر بیٹھے ہو کس طرح ترے حسن کا شہرا

    یوسف کو ملا مرتبہ کنعان سے باہر

    پھر نکلیں مہ و مہر چمک کر تو میں جانوں

    بے پردہ اگر آؤ تم ایوان سے باہر

    وہ بستۂ زنجیر خموشی ہوں کہ تا حشر

    نکلے مرے نالے بھی نہ زندان سے باہر

    چاروں طرف اک دم میں نئی چاندنی چھٹکی

    شب کو نکل آئے جو وہ دالان سے باہر

    نشہ میں انہیں کے مجھے درکار ہیں بوسے

    جو پستۂ خنداں ہیں گزک دان سے باہر

    سجدہ تمہیں کر بیٹھیں گے کفار و مسلماں

    اب کے بھی اگر آؤ گے اس شان سے باہر

    اب ہاتھ مگر گردن نازک میں پڑا ہے

    ہوگا نہ گلہ ان کا گریبان سے باہر

    ثابت قدم معرکہ آ پہنچے اب اے عشق

    سر دے کے بھی جائیں گے نہ میدان سے باہر

    غیروں کے تصور میں رسائی ہوئی کیوں کر

    کس وقت گئے آپ مرے دھیان سے باہر

    اوصاف قد یار بھی موزوں کرو اے بزمؔ

    کیوں نور کا مصرع رہے دیوان سے باہر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے