یوں تو نہیں کہ پہلے سہارے بنائے تھے

شاہد ذکی

یوں تو نہیں کہ پہلے سہارے بنائے تھے

شاہد ذکی

MORE BYشاہد ذکی

    یوں تو نہیں کہ پہلے سہارے بنائے تھے

    دریا بنا کے اس نے کنارے بنائے تھے

    کوزے بنانے والے کو عجلت عجیب تھی

    پورے نہیں بنائے تھے سارے بنائے تھے

    اب عشرت و نشاط کا سامان ہوں تو ہوں

    ہم نے تو دیپ خوف کے مارے بنائے تھے

    دی ہے اسی نے پیاس بجھانے کو آگ بھی

    پانی سے جس نے جسم ہمارے بنائے تھے

    پھر یوں ہوا کہ اس کی زباں کاٹ دی گئی

    وہ جس نے گفتگو کے اشارے بنائے تھے

    صحرا پہ بادلوں کا ہنر کھل نہیں سکا

    قطرے بنائے تھے کہ شرارے بنائے تھے

    شاہدؔ خفا تھا کاتب تقدیر اس لیے

    ہم نے زمیں پہ اپنے ستارے بنائے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY