ضبط بھی چاہئے ظرف بھی چاہئے اور محتاط پاس وفا چاہئے

اقبال عظیم

ضبط بھی چاہئے ظرف بھی چاہئے اور محتاط پاس وفا چاہئے

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    ضبط بھی چاہئے ظرف بھی چاہئے اور محتاط پاس وفا چاہئے

    زندگی دشمنوں میں بھی مشکل نہیں آدمی میں ذرا حوصلہ چاہئے

    ہم کو منزل شناسی پہ بھی ناز ہے اور ہم آشنائے حوادث بھی ہیں

    جوئے خوں سے گزرنا پڑے بھی تو کیا جستجو کو تو اک راستا چاہئے

    اپنے ماتھے پہ بل ڈال کر ہمیں شیش محلوں کے اندر سے جھڑکی نہ دو

    ہم بھکاری نہیں ہیں کہ ٹل جائیں گے ہم کو اپنی وفا کا صلہ چاہئے

    تم نے آرائش گلستاں کے لئے ہم سے کچھ خون مانگا تھا مدت ہوئی

    تم سے خیرات تو ہم نہیں مانگتے ہم کو اس خون کا خوں بہا چاہئے

    ہم کو ہر موڑ پر دوست ملتے رہے ہم کبھی راہ منزل میں تنہا نہ تھے

    کل غم دوست تھا اب غم زیست ہے آشنا کو تو اک آشنا چاہئے

    میری مانو تو اک بات تم سے کہوں یہ نیا دور ہے اس کا کیا ٹھیک ہے

    دوستوں سے ملو محفلوں میں مگر آستینوں کا بھی جائزہ چاہئے

    حد سے بڑھ کر محبت مناسب نہیں اس میں اندیشۂ بد گمانی بھی ہے

    دشمنوں سے تعلق تو ہے ہی غلط دوستوں میں بھی کچھ فاصلہ چاہئے

    جرم بے باک گوئی کی پاداش میں زہر اقبالؔ کو تلخیوں کا ملا

    اس نے اس زہر کو ہی سخن کر لیا اس زمانے میں اب اور کیا چاہئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    RECITATIONS

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    اقبال عظیم

    ضبط بھی چاہئے ظرف بھی چاہئے اور محتاط پاس وفا چاہئے اقبال عظیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY