زہر کے گھونٹ بھی ہنس ہنس کے پیے جاتے ہیں

اقبال عظیم

زہر کے گھونٹ بھی ہنس ہنس کے پیے جاتے ہیں

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    زہر کے گھونٹ بھی ہنس ہنس کے پیے جاتے ہیں

    ہم بہرحال سلیقے سے جیے جاتے ہیں

    ایک دن ہم بھی بہت یاد کئے جائیں گے

    چند افسانے زمانے کو دئیے جاتے ہیں

    ہم کو دنیا سے محبت بھی بہت ہے لیکن

    لاکھ الزام بھی دنیا کو دئیے جاتے ہیں

    بزم اغیار سہی ازرہ تنقید سہی

    شکر ہے ہم بھی کہیں یاد کیے جاتے ہیں

    ہم کیے جاتے ہیں تقلید روایات جنوں

    اور خود چاک گریباں بھی سیے جاتے ہیں

    غم نے بخشی ہے یہ محتاط مزاجی ہم کو

    زخم بھی کھاتے ہیں آنسو بھی پیے جاتے ہیں

    حال کا ٹھیک ہے اقبالؔ نہ فردا کا یقیں

    جانے کیا بات ہے ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY