زخم جب گفتگو نہیں کرتا

افتخار شاھد ابو سعد

زخم جب گفتگو نہیں کرتا

افتخار شاھد ابو سعد

MORE BYافتخار شاھد ابو سعد

    زخم جب گفتگو نہیں کرتا

    چارہ گر بھی رفو نہیں کرتا

    شہر الفت کا وہ منافق ہے

    بات جو روبرو نہیں کرتا

    بات بے بات مسکراتا ہوں

    غم کو میں سرخ رو نہیں کرتا

    ہوک اندر سے اٹھ رہی ہے میاں

    میں دکھانے کو ہو نہیں کرتا

    ضبط کی آخری نشانی ہے

    میں اگر ہاؤ ہو نہیں کرتا

    ٹھیک ہے دیکھ بھال کرتا ہے

    زخم لیکن رفو نہیں کرتا

    اپنے تائیں وہ خوب لکھتا ہے

    لفظ کی آبرو نہیں کرتا

    اے مرے پارسا بتا مجھ کو

    میں جو کرتا ہوں تو نہیں کرتا

    جو اداسی کا پیڑ ہے شاہدؔ

    سبز رت میں نمو نہیں کرتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY