زخم پر رکھتا ہے مرہم آسماں نشتر سمیت

ماہر عبدالحی

زخم پر رکھتا ہے مرہم آسماں نشتر سمیت

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    زخم پر رکھتا ہے مرہم آسماں نشتر سمیت

    امن کا پیغام دیتی ہے ہوا خنجر سمیت

    جب مرے ہمدرد نے بے دست و پا دیکھا مجھے

    لے گیا میرے سمندر سے صدف گوہر سمیت

    چار جانب آگ بھڑکائی گئی اس طور سے

    اہل بینش کی نظر بھی جل گئی منظر سمیت

    آسماں کی چھت زمیں کا فرش بخشتا جائے گا

    گھر اجاڑے جائیں گے بنیاد کے پتھر سمیت

    تیز رفتاری نے دنیا کی اڑایا یہ غبار

    ہر سماں دھندلا گیا اس آئنہ پیکر سمیت

    جل رہے ہیں جو لہو سے ان دیوں کے سامنے

    ہار بیٹھے ہیں پرستاران شب صرصر سمیت

    دیکھنا یہ آنسوؤں کی چند بوندوں کا کمال

    لہلہا اٹھی ہے پتھریلی زمیں بنجر سمیت

    میں نے تیرا نام لے کر جب رکھا تکیے پہ سر

    سارا کمرہ خوشبوؤں سے بھر گیا بستر سمیت

    مرغ کم ہمت فضائے بیکراں ہوتے ہوئے

    آشیانے تک رہا محدود بال و پر سمیت

    کل زمیں میرے مقابل وزن میں ہلکی پڑی

    مجھ کو جب رکھا گیا پلرے میں چشم تر سمیت

    اس تہی دستی میں ماہرؔ آبرو کا کیا سوال

    ہم گنوا بیٹھے ہیں دستار فضیلت سر سمیت

    مآخذ
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 23)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY