زخموں کی دکانوں پہ خریدار بھی آئے

معین شاداب

زخموں کی دکانوں پہ خریدار بھی آئے

معین شاداب

MORE BYمعین شاداب

    زخموں کی دکانوں پہ خریدار بھی آئے

    بازار ہے تو رونق بازار بھی آئے

    شانوں پہ یہاں سر کی جگہ کاسے لگے ہیں

    گر سر کی بحالی ہو تو دستار بھی آئے

    لو حق کے لیے اپنی جڑیں چھوڑ دیں ہم نے

    اب گھر سے نکل کر کوئی انصار بھی آئے

    کوشش کا یہ چاک اور گھماؤں گا میں کب تک

    جیون پہ مرے اب کوئی آکار بھی آئے

    کام آئیں گے یہ چاک گریباں کے رفو میں

    کچھ غم نہیں حصے میں اگر خار بھی آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY