زمانے میں محبت کی اگر بارش نہیں ہوتی

سید عارف علی عارف

زمانے میں محبت کی اگر بارش نہیں ہوتی

سید عارف علی عارف

MORE BYسید عارف علی عارف

    زمانے میں محبت کی اگر بارش نہیں ہوتی

    کسی انسان کو انسان کی خواہش نہیں ہوتی

    ہزاروں رنج و غم کیسے وہ اپنے دل میں رکھتے ہیں

    کہ جن کے دل میں تھوڑی سی بھی گنجائش نہیں ہوتی

    ہم اپنی جان دے کر دوستی کا حق نبھا دیتے

    زمانے کی اگر اس میں کوئی سازش نہیں ہوتی

    تمہارے پاؤں تو دو گام چل کر لڑکھڑاتے ہیں

    ہمارے عزم محکم میں کبھی لغزش نہیں ہوتی

    تمہاری ہی محبت کا صلہ ہے یہ غزل عارفؔ

    لبوں کو شعر کہنے کی کبھی جنبش نہیں ہوتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے