زمیں کے زخم کو پہلے رفو کیا جائے

آصف رشید اسجد

زمیں کے زخم کو پہلے رفو کیا جائے

آصف رشید اسجد

MORE BYآصف رشید اسجد

    زمیں کے زخم کو پہلے رفو کیا جائے

    پھر اس کے بعد دریدہ فلک سیا جائے

    ہمارا عکس اگر درمیاں نہ حائل ہو

    تو آئنے کو گلے سے لگا لیا جائے

    یہ زندگی تو پرانی شراب جیسی ہے

    یہ کڑوا گھونٹ ہے لیکن اسے پیا جائے

    جو رفتگاں ہیں انہیں لوٹ کر نہیں آنا

    اب انتظار کا بستر اٹھا دیا جائے

    تمہاری یاد نے شب خون مارنا ہے تو کیا

    دل و دماغ سے پہرہ ہٹا دیا جائے

    ہمارے سر پہ جو ٹوٹا ہے آسماں تو کیا

    اب آسمان کو سر پر اٹھا لیا جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY