زمیں کی گود میں بیٹھا ہمک رہا ہوں میں

کوثر نیازی

زمیں کی گود میں بیٹھا ہمک رہا ہوں میں

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    زمیں کی گود میں بیٹھا ہمک رہا ہوں میں

    فلک پہ چاند کی جانب لپک رہا ہوں میں

    نہیں ہے اپنی زمیں کی کوئی خبر لیکن

    خلا میں دور کسی شے کو تک رہا ہوں میں

    نہا گیا ہوں خود اپنے لہو میں سرتاپا

    جنوں کی آگ میں لیکن دہک رہا ہوں میں

    اگرچہ ظلمت شب میں کمی نہیں آئی

    مثال ماہ درخشاں چمک رہا ہوں میں

    ہر ایک سمت بدلتی رتوں کا ماتم ہے

    شگفتہ غنچے کی صورت چٹک رہا ہوں میں

    پرکھنے والے مجھے دیکھ اس طرح بھی ذرا

    اگر ہے کھوٹ تو کیسے چمک رہا ہوں میں

    گری ہی جاتی ہے دیوار گریہ ہر لحظہ

    کسی کی آنکھ سے شاید ڈھلک رہا ہوں میں

    تمام شہر نے دیدار کر لیا کوثرؔ

    اب اپنی لاش کے چہرہ کو ڈھک رہا ہوں میں

    مآخذ :
    • کتاب : mata-e-sukhan (Pg. 298)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY