ذرا بتلا زماں کیا ہے مکاں کے اس طرف کیا ہے

اعجاز گل

ذرا بتلا زماں کیا ہے مکاں کے اس طرف کیا ہے

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    ذرا بتلا زماں کیا ہے مکاں کے اس طرف کیا ہے

    اگر یہ سب گماں ہے تو گماں کے اس طرف کیا ہے

    اگر پتھر سے بکھرے ہیں تو آخر یہ چمک کیسی

    جو مخزن نور کا ہے کہکشاں کے اس طرف کیا ہے

    یہ کیا رستہ ہے آدم گامزن ہے کس مسافت میں

    نہیں منزل تو پھر اس کارواں کے اس طرف کیا ہے

    عجب پاتال ہے دروازہ و دیوار سے عاری

    زمیں اندر زمیں بے نشاں کے اس طرف کیا ہے

    تہہ آب رواں سنتا ہوں یہ سرگوشیاں کیسی

    سکونت کس کی ہے اور آستاں کے اس طرف کیا ہے

    سمجھتے آ رہے تھے جس خلا کو شہر گم گشتہ

    وہ شے کیا ہے خلائے بے کراں کے اس طرف کیا ہے

    نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سا

    زمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 10.02.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY