ذرا سی بات پہ ناراضگی اگر ہے یہی

مرتضیٰ برلاس

ذرا سی بات پہ ناراضگی اگر ہے یہی

مرتضیٰ برلاس

MORE BYمرتضیٰ برلاس

    ذرا سی بات پہ ناراضگی اگر ہے یہی

    تو پھر نبھے گی کہاں دوستی اگر ہے یہی

    تمہیں دعا بھی ہم آسودگی کی کیسے دیں

    جو ہم نے دیکھی ہے آسودگی اگر ہے یہی

    ہمیں بکھرنا تو ہے کل نہیں تو آج سہی

    ہمارا کیا ہے تمہاری خوشی اگر ہے یہی

    ابھی نہ جانے ہمیں کتنے دوست کھونے پڑیں

    ہماری باتوں میں بے ساختگی اگر ہے یہی

    میں دل میں رکھتا نہیں منہ پہ صاف کہتا ہوں

    کمی یہ مجھ میں ہے بے شک کمی اگر ہے یہی

    جو راہ بھٹکوں تو اس کی گلی میں آ نکلوں

    خوشا نصیب مری گمرہی اگر ہے یہی

    مثال دینی تو اپنی ہی ذات کی دینی

    تو پھر غرور ہے کیا عاجزی اگر ہے یہی

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat -e-Murtaza Barlas (Pg. 501)
    • Author : Murtaza Barlas
    • مطبع : Alhamd Publication Lahore (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY