ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں

اشفاق حسین

ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں

    تمہارے زخم کو پہچانتا تو میں بھی ہوں

    نہ جانے کون سی آنکھوں سے دیکھتے ہو مجھے

    تمہاری طرح سے ٹوٹا ہوا تو میں بھی ہوں

    تمہی پہ ختم نہیں مہر و ماہ کی گردش

    شکست خواب کا اک سلسلہ تو میں بھی ہوں

    تمہیں منانے کا مجھ کو خیال کیا آئے

    کہ اپنے آپ سے روٹھا ہوا تو میں بھی ہوں

    مجھے بتا کوئی تدبیر رت بدلنے کی

    کہ میں اداس ہوں یہ جانتا تو میں بھی ہوں

    تلاش اپنی خود اپنے وجود کو کھو کر

    یہ کار عشق ہے اس میں لگا تو میں بھی ہوں

    رموز حرف نہ ہاتھ آئے ورنہ اے اشفاقؔ

    زمانے بھر سے الگ سوچتا تو میں بھی ہوں

    RECITATIONS

    اشفاق حسین

    اشفاق حسین

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اشفاق حسین

    ذرا ذرا ہی سہی آشنا تو میں بھی ہوں اشفاق حسین

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY