زرد چہرہ ہے مرا زرد بھی ایسا ویسا

کومل جوئیہ

زرد چہرہ ہے مرا زرد بھی ایسا ویسا

کومل جوئیہ

MORE BYکومل جوئیہ

    زرد چہرہ ہے مرا زرد بھی ایسا ویسا

    ہجر کا درد ہے اور درد بھی ایسا ویسا

    ایسی ٹھنڈک کہ جمی برف ہر اک خواہش پر

    سرد لہجہ تھا کوئی سرد بھی ایسا ویسا

    اب اسے فرصت احوال میسر ہی نہیں

    وہ جو ہمدرد تھا ہمدرد بھی ایسا ویسا

    یعنی اس دھول کے چھٹنے پہ بھی الزام جنوں

    کوئی طوفاں ہے پس گرد بھی ایسا ویسا

    پوری بستی میں بس اک شخص سے نسبت مجھ کو

    مجھ سے منکر ہے وہ اک فرد بھی ایسا ویسا

    عشق نے ریل کی پٹری پہ لٹایا جس کو

    تھا جواں مرد جواں مرد بھی ایسا ویسا

    کیا تجھے ہجر کے آزار بتائے کوملؔ

    تو تو بے درد ہے بے درد بھی ایسا ویسا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY